چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا میں

چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا میں آنکھ کُھلنے پہ بھی بیدار نہیں ہوتا میں ناؤ ہوں اور مرا ساحل سے بھی رشتہ ہے کوئی یعنی دریا میں لگاتار نہیں ہوتا میں خواب کرنا ہو سفر کرنا ہو یا رونا ہو مجھ میں اک خوبی ہے بیزار نہیں ہوتا میں کون آئے گا بھلا … More چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا میں

جب ترا حکم ملا ترک محبّت کر دی

جب ترا حکم ملا ترک محبّت کر دی دل مگر اس پہ دھڑکا کہ قیامت کر دی تجھ سے کس طرح میں اظہار محبّت کرتا لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ اآتے ہیں جانے والے تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی مجھ کو … More جب ترا حکم ملا ترک محبّت کر دی

….ایک خیال کی رو میں

ایک خیال کی رو میں ۔۔۔ کہیں سنا ہے گئے زمانوں میں لوگ جب قافلوں کی صورت مسافتوں کو عبور کرتے تو قافلے میں اک ایسا ہمراہ ساتھ ہوتا کہ جو سفر میں تمام لوگوں کے پیچھے چلتا اور اُس کے ذمّے یہ کام ہوتا کہ آگے جاتے مسافروں سے اگر کوئی چیز گر گئی … More ….ایک خیال کی رو میں

خبر نہیں بے حصار تھا میں کہاں کہاں پر

خبر نہیں بے حصار تھا میں کہاں کہاں پر سو ڈھونڈھتا ہوں وجود اپنا یہاں وہاں پر بہت سلیقے سے زندگی کو گزارنے میں بکھر گئی میری سانس آخر بساط جاں پر بڑی اذیت ہے سوچنا عہد بے حسی میں ہزار صدیوں کا بوجھ ہے ذہن ناتواں پر ثقافتوں کا طلسم ٹوٹا تو سوچتا ہوں … More خبر نہیں بے حصار تھا میں کہاں کہاں پر

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں اب تو اُس کی آنکھوں کے میکدے میّسر ہیں پھر سکون ڈھونڈو گے ساغروں میں جاموں میں دوستی کا دعویٰ کیا عاشقی سے کیا مطلب میں ترے فقیروں میں میں ترے غلاموں میں رائیگاں مسافت میں کون … More اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

عشق ميں غيرتِ جذبات نے رونے نہ ديا

عشق ميں غيرتِ جذبات نے رونے نہ ديا ورنہ کيا بات تھي، کِس بات نے رونے نہ ديا آپ کہتے تھے کہ رونے سے نہ بدليں گے نصيب عمر بھر آپ کي اِس بات نے رونے نہ ديا رونے والوں سے کہو، اُن کا بھي رونا رو ليں جن کو مجبوريِ حالات نے رونے نہ … More عشق ميں غيرتِ جذبات نے رونے نہ ديا

کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے

کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے ساتھ والا مکان روشن ہے یہ ستارے چہکتے ہیں کتنے آسماں کیا کسی کا آنگن ہے؟ چاندنی ہے سفیر سورج کی چاند تو ظلمتوں کا مدفن ہے آگ ہے کوہسار کے نیچے برف تو پیرہن ہے، اچکن ہے دائمی زندگی کی ہے ضامن یہ فنا جو بقا کی دشمن ہے … More کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے