ﮨﻢ ﻏﺰﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺍ ﭼﺮﭼﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ/Hum Ghazal mein tera charcha nahi hone dete

ﮨﻢ ﻏﺰﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺍ ﭼﺮﭼﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺭُﺳﻮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ

ﮐﭽﮫ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺷﮩﺮﺕ ﺍﭘﻨﯽ
ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ

ﻋﻈﻤﺘﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﺮﺍﻏﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺟﺎﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ

ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮐﭽﮯ ﻣﮑﺎﻧﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ
ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﻓﺎﻗﮧ ﻧﮩﯿﮟﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ

ﺫﮐﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ  ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﮨﻢ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﻮ ﺟﺰﯾﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ

ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗﮭﮑﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮐﺎ ﭘﮩﺎﮌ
ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﻧﮩﯿﮟﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ

معراج فیض آبادی

 

Hum Ghazal mein tera charcha nahi hone dete

Teri yadoN ko bhi ruswa nahi hone dete

kuch to humkhud bhi nahi chahte shohrat apni 

Aur kuch log bhi aisa nahi hone dete

AzmateiN apne chiraghoN ki bachane k liye

Hum kisi ghar mein ujala nahi hone dete

Aaj bhi gaoN mein kuch kachhe makano waloN 

  Ghar mein hamsaaye  ke faqa nahi hone dete

 Zikr karte hain tera naam nahi lete hain 

 Hum samandar ko jazeera nahi hone dete

Mujhko takhne nahi deta yeH zaroorat ka pahaar

 Mere bachhe mujhe boorha nahi hone dete

Meraaj Faizabadi

….ایک خیال کی رو میں

ایک خیال کی رو میں ۔۔۔

کہیں سنا ہے
گئے زمانوں میں
لوگ جب قافلوں کی صورت
مسافتوں کو عبور کرتے
تو قافلے میں اک ایسا ہمراہ ساتھ ہوتا
کہ جو سفر میں
تمام لوگوں کے پیچھے چلتا
اور اُس کے ذمّے یہ کام ہوتا
کہ آگے جاتے مسافروں سے
اگر کوئی چیز گر گئی ہو
جو کوئی شے پیچھے رہ گئی ہو
تو وہ مسافر
تمام چیزوں کو چُنتا جائے
اور آنے والے کسی پڑاؤ میں ساری چیزیں
تما م ایسے مُسافروں کے حوالے کردے
کہ جو منازل کی چاہ دل میں لئے شتابی سے
اپنے رستے تو پاٹ آئے
پر اپنی عجلت میں کتنی چیزیں
گرا بھی آئے ، گنوا بھی آئے

میں سوچتا ہوں
کہ زندگانی کے اس سفر میں
مجھے بھی ایسا ہی کوئی کردار مل گیا ہے
کہ میرے ہمراہ جو بھی احباب تھے
منازل کی چاہ دل میں لئے شتابی سے
راستوں پر بہت ہی آگے نکل گئے ہیں
میں سب سے پیچھے ہوں اس سفر میں
سو دیکھتا ہوں کہ راستے میں
وفا، مروت، خلوص و ایثار، مہر و الفت
اور اس طرح کی بہت سی چیزیں
جگہ جگہ پر پڑی ہوئی ہیں
میں اپنے خود ساختہ اُصولوں کی
زرد گٹھری میں ساری چیزیں سمیٹتا ہوں
اور اپنے احساس کے جلو میں
ہر اک پڑاؤ پہ جانے والوں کو ڈھونڈتا ہوں
پر ایسا لگتا ہے
جیسے میرے تمام احباب منزلوں کو گلے لگانے
بہت ہی آگے نکل گئے ہیں
یا میں ہی شاید
وفا، مروت، خلوص و ایثار، مہر و الفت
اور اس طرح کی بہت سی چیزیں سمیٹنے میں کئی زمانے بتا چکا ہوں۔

Muhammad Ahmed

خبر نہیں بے حصار تھا میں کہاں کہاں پر

خبر نہیں بے حصار تھا میں کہاں کہاں پر
سو ڈھونڈھتا ہوں وجود اپنا یہاں وہاں پر

بہت سلیقے سے زندگی کو گزارنے میں
بکھر گئی میری سانس آخر بساط جاں پر


بڑی اذیت ہے سوچنا عہد بے حسی میں
ہزار صدیوں کا بوجھ ہے ذہن ناتواں پر


ثقافتوں کا طلسم ٹوٹا تو سوچتا ہوں
بہت ضروری ہے اک سفر راہ رفتگاں پر


درازی شب میں تجھ کو تسخیر کر رہا ہوں
یقین دینے لگا ہے دستک در گماں پر


راغب اختر

عشق ميں غيرتِ جذبات نے رونے نہ ديا

عشق ميں غيرتِ جذبات نے رونے نہ ديا
ورنہ کيا بات تھي، کِس بات نے رونے نہ ديا

آپ کہتے تھے کہ رونے سے نہ بدليں گے نصيب
عمر بھر آپ کي اِس بات نے رونے نہ ديا

رونے والوں سے کہو، اُن کا بھي رونا رو ليں
جن کو مجبوريِ حالات نے رونے نہ ديا

تجھ سے مِل کر ھميں رونا تھا، بہت رونا تھا
تنگيِ وقتِ مُلاقات نے رونے نہ ديا

ايک دو روز کا صدمہ ھو تو رو ليں ، فاکر
ھم کو ھر روز کے صدمات نے رونے نہ ديا

“سدرشن فاکر”

Mil hi jayega kaheen dil ko yaqeeN rahta hai…..

Mil hi jayega kaheen dil ko yaqeeN rahta hai
Wo isee shahr ki galiyoN men kaheeN rahta hai

 

Jis ki sansoN se mahakte the dar o baam tere
Aye makaN bol kahaN ab yeh makeeN rahta hai

 

Ek zamana tha k sab ek jagah rahte the
Aur ab koii kaheeN , koii kaheeN rahta hai

 

Roaz milne pe bhi lagta tha k jug beet gaye
Ishq men waqt ka ehsaas naheeN rahta hai

 


Dil fasurda to hua dekh k usko , lekin
Umr bhar kaun jawaN , kaun haseeN rahta hai

Ahmad Mushtaaq

کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے

کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے
ساتھ والا مکان روشن ہے

یہ ستارے چہکتے ہیں کتنے
آسماں کیا کسی کا آنگن ہے؟

چاندنی ہے سفیر سورج کی
چاند تو ظلمتوں کا مدفن ہے

آگ ہے کوہسار کے نیچے
برف تو پیرہن ہے، اچکن ہے

دائمی زندگی کی ہے ضامن
یہ فنا جو بقا کی دشمن ہے

یاد تارِ نفس پہ چڑیا ہے
وحشتوں کا شمار دھڑکن ہے

بھیگتا ہوں تمھاری یادوں میں
خط تمھارا مجھے تو ساون ہے

دیکھتا ہوں بچھڑنے والوں کو
خواب گویا کہ دور درشن ہے

نخلِ گُل ہو کسی کا مجھ کو کیا
مجھ کو تو خار و خس ہی گلشن ہے

تک رہا ہوں جہاں کو حیرت سے
مجھ میں جاگا یہ کیسا بچپن ہے

آپ مجھ کو ہی ڈھونڈتے ہوں گے
سب سے پتلی مری ہی گردن ہے

ہنس دیے میری بات سن کر وہ
مُسکرا کر کہا کہ بچپن ہے

احمدؔ اپنی مثال آپ ہوں میں
ہاں مِرا شعر، میرا درپن ہے

محمد احمدؔ

ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا

ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا
اُس پر مری زُباں کو حدِّ ادب میں رکھا

کس نے سکھایا سائل کو بھوک کا ترانہ
پھر کس نے لاکے کاسہ دستِ طلب میں رکھا

مفلس کی چھت کے نیچے کمھلا گئے ہیں بچّے
پھولوں کو لا کے کس نے چشمِ غضب میں رکھا

پروردگار نے تو تقویٰ کی بات کی تھی
تم نے فضیلتوں کو نام و نسب میں رکھا

دراصل تم سے مل کر میں خود سے مل سکوں گا
بس ایک ہی سبب ہے دار السبب میں رکھا

بس دل کی انجمن ہے ، یادوں کے نسترن ہیں
اب اور کیا ہے باقی ، اس جاں بہ لب میں رکھا

احمدؔ میں بات دل کی کہتا تو کس سے کہتا
نغمہ سکوت کا تھا شور و شغب میں رکھا