ﮨﻢ ﻏﺰﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺍ ﭼﺮﭼﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ/Hum Ghazal mein tera charcha nahi hone dete

ﮨﻢ ﻏﺰﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺍ ﭼﺮﭼﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺭُﺳﻮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ

ﮐﭽﮫ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺷﮩﺮﺕ ﺍﭘﻨﯽ
ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ

ﻋﻈﻤﺘﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﺮﺍﻏﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺟﺎﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ

ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮐﭽﮯ ﻣﮑﺎﻧﻮﮞ ﻭﺍﻟﮯ
ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺴﺎﺋﮯ ﮐﮯ ﻓﺎﻗﮧ ﻧﮩﯿﮟﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ

ﺫﮐﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﺮﺍ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ  ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﮨﻢ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﻮ ﺟﺰﯾﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ

ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗﮭﮑﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﯾﮧ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮐﺎ ﭘﮩﺎﮌ
ﻣﯿﺮﮮ ﺑﭽﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻮﮌﮬﺎ ﻧﮩﯿﮟﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﮯ

معراج فیض آبادی

 

Hum Ghazal mein tera charcha nahi hone dete

Teri yadoN ko bhi ruswa nahi hone dete

kuch to humkhud bhi nahi chahte shohrat apni 

Aur kuch log bhi aisa nahi hone dete

AzmateiN apne chiraghoN ki bachane k liye

Hum kisi ghar mein ujala nahi hone dete

Aaj bhi gaoN mein kuch kachhe makano waloN 

  Ghar mein hamsaaye  ke faqa nahi hone dete

 Zikr karte hain tera naam nahi lete hain 

 Hum samandar ko jazeera nahi hone dete

Mujhko takhne nahi deta yeH zaroorat ka pahaar

 Mere bachhe mujhe boorha nahi hone dete

Meraaj Faizabadi

جب ترا حکم ملا ترک محبّت کر دی

جب ترا حکم ملا ترک محبّت کر دی
دل مگر اس پہ دھڑکا کہ قیامت کر دی

تجھ سے کس طرح میں اظہار محبّت کرتا
لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی

میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ اآتے ہیں جانے والے
تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی

مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ پیار اآتا ہے
تری الفت نے محبت مری عادت کر دی

پوچھ بیٹھا ہوں تجھ سے ترے کوچے کا پتہ
تیرے حالات نے کیسی تیری حالت کر دی

کیا ترا جسم تیرے حسن کی حدّت میں جلا
راکھ کس نے تری سونے کی سی رنگت کر دی
احمد ندیم قاسمی

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں

اب تو اُس کی آنکھوں کے میکدے میّسر ہیں
پھر سکون ڈھونڈو گے ساغروں میں جاموں میں

دوستی کا دعویٰ کیا عاشقی سے کیا مطلب
میں ترے فقیروں میں میں ترے غلاموں میں

رائیگاں مسافت میں کون ساتھ چلتا ہے
سب ہی چھوڑ جاتے ہیں دو چار گاموں میں

زندگی بکھرتی ہے شاعری نکھرتی ہے
دل بروں کی گلیوں میں دل لگی کے کاموں میں

جس طرح شعیب اُس کا نام چُن لیا تم نے
اُس نے بھی ہے چُن رکھا ایک نام ناموں میں
شعیب بن عزیز

عشق ميں غيرتِ جذبات نے رونے نہ ديا

عشق ميں غيرتِ جذبات نے رونے نہ ديا
ورنہ کيا بات تھي، کِس بات نے رونے نہ ديا

آپ کہتے تھے کہ رونے سے نہ بدليں گے نصيب
عمر بھر آپ کي اِس بات نے رونے نہ ديا

رونے والوں سے کہو، اُن کا بھي رونا رو ليں
جن کو مجبوريِ حالات نے رونے نہ ديا

تجھ سے مِل کر ھميں رونا تھا، بہت رونا تھا
تنگيِ وقتِ مُلاقات نے رونے نہ ديا

ايک دو روز کا صدمہ ھو تو رو ليں ، فاکر
ھم کو ھر روز کے صدمات نے رونے نہ ديا

“سدرشن فاکر”

Mil hi jayega kaheen dil ko yaqeeN rahta hai…..

Mil hi jayega kaheen dil ko yaqeeN rahta hai
Wo isee shahr ki galiyoN men kaheeN rahta hai

 

Jis ki sansoN se mahakte the dar o baam tere
Aye makaN bol kahaN ab yeh makeeN rahta hai

 

Ek zamana tha k sab ek jagah rahte the
Aur ab koii kaheeN , koii kaheeN rahta hai

 

Roaz milne pe bhi lagta tha k jug beet gaye
Ishq men waqt ka ehsaas naheeN rahta hai

 


Dil fasurda to hua dekh k usko , lekin
Umr bhar kaun jawaN , kaun haseeN rahta hai

Ahmad Mushtaaq

ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا

ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا
اُس پر مری زُباں کو حدِّ ادب میں رکھا

کس نے سکھایا سائل کو بھوک کا ترانہ
پھر کس نے لاکے کاسہ دستِ طلب میں رکھا

مفلس کی چھت کے نیچے کمھلا گئے ہیں بچّے
پھولوں کو لا کے کس نے چشمِ غضب میں رکھا

پروردگار نے تو تقویٰ کی بات کی تھی
تم نے فضیلتوں کو نام و نسب میں رکھا

دراصل تم سے مل کر میں خود سے مل سکوں گا
بس ایک ہی سبب ہے دار السبب میں رکھا

بس دل کی انجمن ہے ، یادوں کے نسترن ہیں
اب اور کیا ہے باقی ، اس جاں بہ لب میں رکھا

احمدؔ میں بات دل کی کہتا تو کس سے کہتا
نغمہ سکوت کا تھا شور و شغب میں رکھا

سسکیاں لیتی ہوئی غمگین ہواؤ، چُپ رہو

سسکیاں لیتی ہوئی غمگین ہواؤ، چُپ رہو
سو رہے ہیں درد، ان کو مت جگاؤ، چُپ رہو

 

رات کا پتھر نہ پگھلے گا شعاعوں کے بغیر
صبح ہونے تک نہ بولو ہم نواؤ ، چُپ رہو

 

بند ہیں سب میکدے، ساقی بنے ہیں محتسب
اے گرجتی گونجتی کالی گھٹاؤ ، چُپ رہو

 

تم کو ہے معلوم آخر کون سا موسم ہے یہ
فصلِ گل آنے تلک اے خوشنواؤ ، چُپ رہو

 

سوچ کی دیوار سے لگ کر ہیں غم بیٹھے ہوئے
دل میں بھی نغمہ نہ کوئی گنگناؤ ، چُپ رہو

 

چھٹ گئے حالات کے بادل تو دیکھا جائے گا
وقت سے پہلے اندھیرے میں نہ جاو ، چُپ رہو

 

دیکھ لینا، گھر سے نکلے گا نہ ہمسایہ کوئی
اے مرے یارو، مرے درد آشناؤ ، چُپ رہو

 

کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ
اپنی سولی اپنے کاندھے پر اُٹھاؤ ، چُپ رہو