جب ترا حکم ملا ترک محبّت کر دی

جب ترا حکم ملا ترک محبّت کر دی
دل مگر اس پہ دھڑکا کہ قیامت کر دی

تجھ سے کس طرح میں اظہار محبّت کرتا
لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی

میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ اآتے ہیں جانے والے
تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی

مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ پیار اآتا ہے
تری الفت نے محبت مری عادت کر دی

پوچھ بیٹھا ہوں تجھ سے ترے کوچے کا پتہ
تیرے حالات نے کیسی تیری حالت کر دی

کیا ترا جسم تیرے حسن کی حدّت میں جلا
راکھ کس نے تری سونے کی سی رنگت کر دی
احمد ندیم قاسمی

Advertisements

غمِ جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ھُوئے؟

غمِ جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ھُوئے؟
وہ ساری عمر انتظار کرنے والے کیا ھُوئے؟

بہم ھوئے بغیر جو گذر گئیں ، وہ ساعتیں
وہ ایک ایک پل شمار کرنے والے کیا ھُوئے؟

دُعائے نیم شب کی رسم کیسے ختم ھو گئی ؟
وہ حرفِ جاں پہ اعتبار کرنے والے کیا ھُوئے؟

کہاں ھیں وہ جو دشتِ آرزو میں خاک ھو گئے ؟
وہ لمحہ ابد شکار کرنے والے کیا ھُوئے؟

طلب کے ساحلوں پہ جلتی کشتیاں بتائیں گی
شناوری پہ اعتبار کرنے والے کیا ھُوئے؟

”افتخار عارف“

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں

اب تو اُس کی آنکھوں کے میکدے میّسر ہیں
پھر سکون ڈھونڈو گے ساغروں میں جاموں میں

دوستی کا دعویٰ کیا عاشقی سے کیا مطلب
میں ترے فقیروں میں میں ترے غلاموں میں

رائیگاں مسافت میں کون ساتھ چلتا ہے
سب ہی چھوڑ جاتے ہیں دو چار گاموں میں

زندگی بکھرتی ہے شاعری نکھرتی ہے
دل بروں کی گلیوں میں دل لگی کے کاموں میں

جس طرح شعیب اُس کا نام چُن لیا تم نے
اُس نے بھی ہے چُن رکھا ایک نام ناموں میں
شعیب بن عزیز

Mil hi jayega kaheen dil ko yaqeeN rahta hai…..

Mil hi jayega kaheen dil ko yaqeeN rahta hai
Wo isee shahr ki galiyoN men kaheeN rahta hai

 

Jis ki sansoN se mahakte the dar o baam tere
Aye makaN bol kahaN ab yeh makeeN rahta hai

 

Ek zamana tha k sab ek jagah rahte the
Aur ab koii kaheeN , koii kaheeN rahta hai

 

Roaz milne pe bhi lagta tha k jug beet gaye
Ishq men waqt ka ehsaas naheeN rahta hai

 


Dil fasurda to hua dekh k usko , lekin
Umr bhar kaun jawaN , kaun haseeN rahta hai

Ahmad Mushtaaq

کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے

کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے
ساتھ والا مکان روشن ہے

یہ ستارے چہکتے ہیں کتنے
آسماں کیا کسی کا آنگن ہے؟

چاندنی ہے سفیر سورج کی
چاند تو ظلمتوں کا مدفن ہے

آگ ہے کوہسار کے نیچے
برف تو پیرہن ہے، اچکن ہے

دائمی زندگی کی ہے ضامن
یہ فنا جو بقا کی دشمن ہے

یاد تارِ نفس پہ چڑیا ہے
وحشتوں کا شمار دھڑکن ہے

بھیگتا ہوں تمھاری یادوں میں
خط تمھارا مجھے تو ساون ہے

دیکھتا ہوں بچھڑنے والوں کو
خواب گویا کہ دور درشن ہے

نخلِ گُل ہو کسی کا مجھ کو کیا
مجھ کو تو خار و خس ہی گلشن ہے

تک رہا ہوں جہاں کو حیرت سے
مجھ میں جاگا یہ کیسا بچپن ہے

آپ مجھ کو ہی ڈھونڈتے ہوں گے
سب سے پتلی مری ہی گردن ہے

ہنس دیے میری بات سن کر وہ
مُسکرا کر کہا کہ بچپن ہے

احمدؔ اپنی مثال آپ ہوں میں
ہاں مِرا شعر، میرا درپن ہے

محمد احمدؔ

سسکیاں لیتی ہوئی غمگین ہواؤ، چُپ رہو

سسکیاں لیتی ہوئی غمگین ہواؤ، چُپ رہو
سو رہے ہیں درد، ان کو مت جگاؤ، چُپ رہو

 

رات کا پتھر نہ پگھلے گا شعاعوں کے بغیر
صبح ہونے تک نہ بولو ہم نواؤ ، چُپ رہو

 

بند ہیں سب میکدے، ساقی بنے ہیں محتسب
اے گرجتی گونجتی کالی گھٹاؤ ، چُپ رہو

 

تم کو ہے معلوم آخر کون سا موسم ہے یہ
فصلِ گل آنے تلک اے خوشنواؤ ، چُپ رہو

 

سوچ کی دیوار سے لگ کر ہیں غم بیٹھے ہوئے
دل میں بھی نغمہ نہ کوئی گنگناؤ ، چُپ رہو

 

چھٹ گئے حالات کے بادل تو دیکھا جائے گا
وقت سے پہلے اندھیرے میں نہ جاو ، چُپ رہو

 

دیکھ لینا، گھر سے نکلے گا نہ ہمسایہ کوئی
اے مرے یارو، مرے درد آشناؤ ، چُپ رہو

 

کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ
اپنی سولی اپنے کاندھے پر اُٹھاؤ ، چُپ رہو

Koyee Had Nahi Hai Kamal Ki..

Koyee had nahi hai kamaal ki
Koyee had nahi hai jamaal ki

Wahi qurb O door ki manzileN
Wahi sham khaab O khyaal ki

Na mujhe hi uska pata koyee
Na use khabar mere haal ki

Ye jawaab meri sada ka hai
K sada hai uske sawaal ki

Wo qayamateN jo guzar gayeeN
ThiN amanaten kayee saal ki

Ye namaaz E asr ka waqt hai
Ye ghari hai din k zawaal ki

Hai MONIR subh E safar nayee
Gayee baat shab k malaal ki