غمِ جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ھُوئے؟

غمِ جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ھُوئے؟ وہ ساری عمر انتظار کرنے والے کیا ھُوئے؟ بہم ھوئے بغیر جو گذر گئیں ، وہ ساعتیں وہ ایک ایک پل شمار کرنے والے کیا ھُوئے؟ دُعائے نیم شب کی رسم کیسے ختم ھو گئی ؟ وہ حرفِ جاں پہ اعتبار کرنے والے کیا ھُوئے؟ کہاں ھیں … More غمِ جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ھُوئے؟

خبر نہیں بے حصار تھا میں کہاں کہاں پر

خبر نہیں بے حصار تھا میں کہاں کہاں پر سو ڈھونڈھتا ہوں وجود اپنا یہاں وہاں پر بہت سلیقے سے زندگی کو گزارنے میں بکھر گئی میری سانس آخر بساط جاں پر بڑی اذیت ہے سوچنا عہد بے حسی میں ہزار صدیوں کا بوجھ ہے ذہن ناتواں پر ثقافتوں کا طلسم ٹوٹا تو سوچتا ہوں … More خبر نہیں بے حصار تھا میں کہاں کہاں پر

کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے

کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے ساتھ والا مکان روشن ہے یہ ستارے چہکتے ہیں کتنے آسماں کیا کسی کا آنگن ہے؟ چاندنی ہے سفیر سورج کی چاند تو ظلمتوں کا مدفن ہے آگ ہے کوہسار کے نیچے برف تو پیرہن ہے، اچکن ہے دائمی زندگی کی ہے ضامن یہ فنا جو بقا کی دشمن ہے … More کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے

ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا

ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا اُس پر مری زُباں کو حدِّ ادب میں رکھا کس نے سکھایا سائل کو بھوک کا ترانہ پھر کس نے لاکے کاسہ دستِ طلب میں رکھا مفلس کی چھت کے نیچے کمھلا گئے ہیں بچّے پھولوں کو لا کے کس نے چشمِ غضب میں رکھا پروردگار نے … More ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا

میں خرد مند رہوں یا تیرا وحشی ہو جاوں

میں خرد مند رہوں یا تیرا وحشی ہو جاوں جو بھی ہونا ہے مجھے عشق میں جلدی ہو جاوں   زندگی چاک کی گردش کے سوا کچھ بھی نہیں میں اگر کوزہ گری چھوڑ دوں مٹی ہو جاوں   پھر سے لے جائے میری ذات سے تُو عشق ادھار اور میں پھر سے تیرے حسن … More میں خرد مند رہوں یا تیرا وحشی ہو جاوں