غمِ جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ھُوئے؟

غمِ جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ھُوئے؟
وہ ساری عمر انتظار کرنے والے کیا ھُوئے؟

بہم ھوئے بغیر جو گذر گئیں ، وہ ساعتیں
وہ ایک ایک پل شمار کرنے والے کیا ھُوئے؟

دُعائے نیم شب کی رسم کیسے ختم ھو گئی ؟
وہ حرفِ جاں پہ اعتبار کرنے والے کیا ھُوئے؟

کہاں ھیں وہ جو دشتِ آرزو میں خاک ھو گئے ؟
وہ لمحہ ابد شکار کرنے والے کیا ھُوئے؟

طلب کے ساحلوں پہ جلتی کشتیاں بتائیں گی
شناوری پہ اعتبار کرنے والے کیا ھُوئے؟

”افتخار عارف“

Advertisements

خبر نہیں بے حصار تھا میں کہاں کہاں پر

خبر نہیں بے حصار تھا میں کہاں کہاں پر
سو ڈھونڈھتا ہوں وجود اپنا یہاں وہاں پر

بہت سلیقے سے زندگی کو گزارنے میں
بکھر گئی میری سانس آخر بساط جاں پر


بڑی اذیت ہے سوچنا عہد بے حسی میں
ہزار صدیوں کا بوجھ ہے ذہن ناتواں پر


ثقافتوں کا طلسم ٹوٹا تو سوچتا ہوں
بہت ضروری ہے اک سفر راہ رفتگاں پر


درازی شب میں تجھ کو تسخیر کر رہا ہوں
یقین دینے لگا ہے دستک در گماں پر


راغب اختر

Mil hi jayega kaheen dil ko yaqeeN rahta hai…..

Mil hi jayega kaheen dil ko yaqeeN rahta hai
Wo isee shahr ki galiyoN men kaheeN rahta hai

 

Jis ki sansoN se mahakte the dar o baam tere
Aye makaN bol kahaN ab yeh makeeN rahta hai

 

Ek zamana tha k sab ek jagah rahte the
Aur ab koii kaheeN , koii kaheeN rahta hai

 

Roaz milne pe bhi lagta tha k jug beet gaye
Ishq men waqt ka ehsaas naheeN rahta hai

 


Dil fasurda to hua dekh k usko , lekin
Umr bhar kaun jawaN , kaun haseeN rahta hai

Ahmad Mushtaaq

کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے

کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے
ساتھ والا مکان روشن ہے

یہ ستارے چہکتے ہیں کتنے
آسماں کیا کسی کا آنگن ہے؟

چاندنی ہے سفیر سورج کی
چاند تو ظلمتوں کا مدفن ہے

آگ ہے کوہسار کے نیچے
برف تو پیرہن ہے، اچکن ہے

دائمی زندگی کی ہے ضامن
یہ فنا جو بقا کی دشمن ہے

یاد تارِ نفس پہ چڑیا ہے
وحشتوں کا شمار دھڑکن ہے

بھیگتا ہوں تمھاری یادوں میں
خط تمھارا مجھے تو ساون ہے

دیکھتا ہوں بچھڑنے والوں کو
خواب گویا کہ دور درشن ہے

نخلِ گُل ہو کسی کا مجھ کو کیا
مجھ کو تو خار و خس ہی گلشن ہے

تک رہا ہوں جہاں کو حیرت سے
مجھ میں جاگا یہ کیسا بچپن ہے

آپ مجھ کو ہی ڈھونڈتے ہوں گے
سب سے پتلی مری ہی گردن ہے

ہنس دیے میری بات سن کر وہ
مُسکرا کر کہا کہ بچپن ہے

احمدؔ اپنی مثال آپ ہوں میں
ہاں مِرا شعر، میرا درپن ہے

محمد احمدؔ

ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا

ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا
اُس پر مری زُباں کو حدِّ ادب میں رکھا

کس نے سکھایا سائل کو بھوک کا ترانہ
پھر کس نے لاکے کاسہ دستِ طلب میں رکھا

مفلس کی چھت کے نیچے کمھلا گئے ہیں بچّے
پھولوں کو لا کے کس نے چشمِ غضب میں رکھا

پروردگار نے تو تقویٰ کی بات کی تھی
تم نے فضیلتوں کو نام و نسب میں رکھا

دراصل تم سے مل کر میں خود سے مل سکوں گا
بس ایک ہی سبب ہے دار السبب میں رکھا

بس دل کی انجمن ہے ، یادوں کے نسترن ہیں
اب اور کیا ہے باقی ، اس جاں بہ لب میں رکھا

احمدؔ میں بات دل کی کہتا تو کس سے کہتا
نغمہ سکوت کا تھا شور و شغب میں رکھا

میں خرد مند رہوں یا تیرا وحشی ہو جاوں

میں خرد مند رہوں یا تیرا وحشی ہو جاوں
جو بھی ہونا ہے مجھے عشق میں جلدی ہو جاوں

 

زندگی چاک کی گردش کے سوا کچھ بھی نہیں
میں اگر کوزہ گری چھوڑ دوں مٹی ہو جاوں

 

پھر سے لے جائے میری ذات سے تُو عشق ادھار
اور میں پھر سے تیرے حسن پہ باقی ہو جاوں

 

کوئی دم تُو میرے چہرے پہ خوشی بن کے ابھر
کوئی دم میں تیرے چہرے کی اداسی ہو جاوں

 

یا تو دریا میں بدل جاوں کہ لہریں اٹھیں
ہا بگولوں کاکہا مان لوں آندھی ہو جاوں

 

اس کی جانب سے کوئی ہجر مجھے آ کے لگے
اور میں معرکہ ء عشق میں زخمی ہو جاوں

 

جبر کی طرح کوئی جبر کروں اپنے ساتھ
کیوں نا کچھ دیر کو میں اپنے پہ حاوی ہو جاوں

Koyee Had Nahi Hai Kamal Ki..

Koyee had nahi hai kamaal ki
Koyee had nahi hai jamaal ki

Wahi qurb O door ki manzileN
Wahi sham khaab O khyaal ki

Na mujhe hi uska pata koyee
Na use khabar mere haal ki

Ye jawaab meri sada ka hai
K sada hai uske sawaal ki

Wo qayamateN jo guzar gayeeN
ThiN amanaten kayee saal ki

Ye namaaz E asr ka waqt hai
Ye ghari hai din k zawaal ki

Hai MONIR subh E safar nayee
Gayee baat shab k malaal ki