A Blind Poem/ایک نابینا نظم

ایک نابینا نظم مری آنکھیں تبھی سے (میں جب دنیا میں میں آیئ تھی) روشنی نا آشنا تھیں میں اپنے ہاتھ کی واضح لکیروں کو بھی اب تک دیکھ نہ پایٔ مجھے بتلا دے جاناں ! چاند ہم سے دور ہے کتنا مجھے سمجھا کہ اسکی روشنی کا رنگ کیسا ہے مرے کپڑے پہنتے ہیں … More A Blind Poem/ایک نابینا نظم

کب وہ ظاہر ہوگا اور حیران کر دے گا مجھے

کب وہ ظاہر ہوگا اور حیران کر دے گا مجھے جتنی بھی مشکل میں ہوں آسان کر دے گا مجھے روبرو کر کے کبھی اپنے مہکتے سرخ ہونٹ ایک دو پل کے لیے گلدان کر دے گا مجھے روح پھونکے گا محبت کی مرے پیکر میں وہ پھر وہ اپنے سامنے بے جان کر دے … More کب وہ ظاہر ہوگا اور حیران کر دے گا مجھے

چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا میں

چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا میں آنکھ کُھلنے پہ بھی بیدار نہیں ہوتا میں ناؤ ہوں اور مرا ساحل سے بھی رشتہ ہے کوئی یعنی دریا میں لگاتار نہیں ہوتا میں خواب کرنا ہو سفر کرنا ہو یا رونا ہو مجھ میں اک خوبی ہے بیزار نہیں ہوتا میں کون آئے گا بھلا … More چیختے ہیں در و دیوار نہیں ہوتا میں