My Writing

Intolerant Dreams

زلفی جمیل

میری سب سے بری عادت یہ ہے کہ میں روزانہ عجیب و غریب خواب دیکھتا ہوں۔۔۔‌ جس میں کچھ حقیقت سے لگتے ہیں کچھ۔ بالکل مختلف۔ کچھ سمجھ میں آنے والے ۔ کچھ نا سمجھ میں آنے والے۔ کھبی اندھا ہوتا ہوں اور سرکار چلاتا ہوں۔  کبھی سانپوں سے لڑایئ  ہوتی ہے ۔ تو کبھی کوئ مجھے پکڑنا چاہتا ہے اور میں اسکی گرفتاری سے بچنے کے لئے دوڑتا ہوں۔ ہانپ جاتا ہوں ۔ قدم اٹھانے کی کوشش کرتا ہوں مگر قدم نہیں اٹھا پاتا حریف قریب ہو جاتا ہے۔ خوف جسم میں جمود کی شکل بن جاتا ہے۔۔ آنکھیں کھل جاتیں ہیں ۔

خدا جانے اب بالکل الگ اور مسلسل ایک ہی خواب آرہے ہیں۔۔۔۔ کچھ اہم  خوابوں کا ذکر کر رہا ہوں۔۔

پہلے روز۔ پہلا خواب

جھونپڑی سے ایک بچہ نکلتا ہے ۔ اور میری جانب آجاتا ہے۔۔۔ بالکل پاس ۔۔۔ بہت پیارا ۔۔۔۔۔

میں اسکو دیکھ کر مسکرا دیتا ہوں۔۔۔۔ وہ خاموش رہتا ہے ۔۔۔ پھر دانتوں سے کٹ کٹ کی آواز نکالنی شروع کر دیتا ہے۔۔۔ ۔۔ اسکی اس معصوم حرکت پر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ میں خوشی میں اسکے بالوں میں اپنی انگلیاں گھمانے لگتا ہوں ۔ ۔مگر شاید اسے میری انگلیاں بالوں دینا اچھا نہیں لگیں۔۔۔ اسنے دانتوں سے کٹ کٹ کی آوازیں تیز کر دیں ۔۔۔۔ اور برابر تیزی لاتا رہا۔۔۔۔ میں منع کرتا ہوں ۔۔۔ وہ اور تیز کر دیتا ہے ۔میری کانیں برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتی ہیں۔میں دور ہٹنے لگتا ہوں۔۔۔۔ وہ ہنسنے لگتا ہے۔۔۔۔۔ اسکی ہنسی میرا پیچھا کرنے لگتی ہیں ۔۔ میں بھاگتا ہوں ۔۔۔ آوازیں قریب ہوجاتی ہیں۔جیسے  بالکل کانوں میں کوئی ہنس رہا ہو۔۔۔۔

دوسرے روز دوسرا خواب۔

وہی بچہ آفس کے قریب ہی سڑک پر ملتا ہے۔ ابھی میں اس سے دور تھا۔۔۔ چاہتا تھا کہ بچ کر نکل جاؤں ۔ لیکن جیسے جیسے اس کے قریب ہو رہا تھا۔۔‌ ہر طرف کے لوگ اسکے گرد جمع ہونے لگتے ہیں۔۔۔۔ وہ ایک قہقہہ بلند کرتا ہے۔ لوگ تالیاں بجانے لگتے ہیں۔ وہ اپنی جیب سے لوہے کا پتر نکال لیتا ہے۔ اسکے سامنے بجلی کا پول کھڑا ہے ۔۔۔ مجمع میں خاموشی پھیل جاتی ہے ۔۔۔  بچہ مونھ کھولتا ہے پھر بند کر لیتا ہے ۔۔۔۔ دانت سے کٹ کٹانے کی دھیمی دھیمی آواز نکلتی ہے۔۔۔ لوہے کے پتر کو پول سے رگڑتاہے ۔۔۔ مجمع تالیاں بجانے لگتا ہے۔۔۔۔ دانت کی کٹ کٹاہٹ اور پتر کی رگڑ  بڑھ جاتی ہے ۔ مجمع مانو دونوں  آوازوں میں لے تال سا مزہ حاصل کر رہا ہو۔۔۔ سارے لوگ جھومنے لگتے ہیں ۔۔۔۔ بچہ مدہوش سا ۔۔۔ تیز اور تیز ۔۔۔۔۔ مجھے جھلاہٹ ہونے لگتی ہے ۔۔ میں سوچتا ہوں۔۔۔ آخر اس آواز سے مجھے ہی کیوں پریشانی ہورہی ہے ۔۔۔۔ سارے لوگوں کو کیوں نہیں۔۔۔ میں پھر بچے کو دیکھتا ہوں  اب وہ میری طرف دیکھ رہا تھا اسکی آنکھیں مسخرے کی لگنے لگیں۔ میں الٹے پاؤں گھر واپس ہونے لگتا ہوں۔ راستے بھرے پڑے ہوتے ہیں۔۔ ہر کوئی چوک چوراہے پر جھومتا ہوا ملتا ہے گھر میں داخل ہوتا ہوں تو منظر وہی ۔۔۔ ہر کوئ مست۔ جھومتا جا رہا تھا۔۔۔ میں زور زور سے دیوار سے سر ٹکرانے لگتا ہوں اور آنکھیں کھل جاتی ہیں۔

تیسرے روز ،تیسرا خواب

کیا دیکھتا ہوں اسکے سارے بدن پر بڑے بڑے سے زخم اگے ہوۓ ہیں ۔ ۔۔۔ وہ مجھے دیکھتے  ہی اپنی آنکھیں نیچی کر لیتا ہے۔ اسکے ہاتھ میں وہی لوہے کا پتر  موجود ہے۔ وہ سڑک پر ایک دفعہ پتر کو رگڑتا ہے  رگڑ کی آواز اس قدر شدید ہوتی ہے۔۔ جسے مانو ثور کی آواز ہو۔۔۔ لوگ بے تحاشا دور و نزدیک سے جمع ہو جاتے ہیں۔  وہ دوبارہ رگڑتا ہے ۔پتر رگڑ سے اتنا دھار دار ہوجاتا ہے کہ تلوار کی دھار ہو۔۔۔  دانت کی کٹ کٹانے کی آواز شروع ہوجاتی ہے۔۔۔ ۔۔۔۔ بچہ لوگوں پر ایک نظر ڈال کر ہنستا ہے اور بے تحاشا ہنستا ہے۔۔ سارے لوگ ہنستے ہیں۔۔۔پھر چشم زدن میں اسکے ہاتھ زخم کی طرف بڑھ جاتے ہیں ۔۔۔۔ اور وہ بے رحم بن کر یکے بعد دیگرے زخموں کو کاٹتا جاتا ہے۔۔۔ لوگوں میں سکون اور خوشی دیکھتا ہوں۔مجھ سے رہا نہیں جاتا میں بچے کو روکنے کے لیئے بڑھتا ہوں کچھ لوگ مجھے روک لیتے ہیں۔۔۔۔ میں تڑپتا ہوں مگر لا حاصل۔ سڑک خون کے رنگ سی دکھنے لگتی ہے۔۔۔۔۔ آخر کار سارے زخموں کو کاٹ لیتا ہے ۔۔۔۔ مجھ میں اسکو دیکھنے کی ہمت باقی نہیں رہتی ہے۔ ۔۔۔۔بچہ یکایک کھڑا ہو جاتا ہے اسکے بدن پر صرف ہڈیاں رہ جاتی ہیں ۔۔۔۔۔ قدم کو شان کے ساتھ بڑھاتا ہے۔ کٹ کٹاہٹ دلخراش ہو جاتی ہے ۔۔۔ وہ آگے بڑھتا جاتا ہے۔۔۔۔۔ لوگ اسکے پیچھے پیچھے ، رقص کرتے ہیں۔۔۔ سب آگے بڑھ جاتے ہیں ۔۔۔ میں بے حال ہو کر زمیں پر گر جاتا ہوں۔

چوتھے روز ، چوتھا خواب۔

میں عدالت کے قریب سے گزرتا ہوں۔ اور وہ بچہ عدالت گاہ  کی بلڈنگ کی چھت سے کودنے کی تیاری کر رہا تھا۔ بھیڑ  اکھٹی تھی ۔۔۔۔ اور سب تماشائی ہم آواز ہو کر کودو ۔ کودو کودو کی آواز لگا رہے تھے ۔ میں قریب ہو کر آواز دیتا ہوں ۔۔۔ نہیں بچے بالکل نہیں۔۔۔۔۔ تم مر جاؤ گے۔۔۔۔ ۔۔۔ سارے لوگوں کے ساتھ بچہ بھی زور سے ہنستا ہے اور چھلانگ لگا دیتا۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ لمحے بعد  عدالتی کارروائی معمول پر آ جاتی ہے۔

پانچویں روز، پانچواں خواب۔۔۔

لیڈران اسمبلی لگاۓ بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ تنگ کپڑوں میں لڑکیاں ناچ رہی ہیں ۔ پیسے نچھاور کیۓ جارہیں۔۔۔۔۔  عوام تماشا دیکھنے آئی ہوئی ہے۔۔ بچہ لیڈران کے پاس جاتا ہے ۔۔۔ بچے کی کان میں کچھ بات کہی جاتی ہے ۔۔۔ بچہ چلا جاتا ہے ۔۔۔۔ کچھ لمحے بعد بچہ ہاتھ میں مشروبات  لیکر برآمد ہوتا ہے۔۔۔۔ میرے سامنے رکتا ہے ۔۔۔۔ مگر پھر قہقہہ لگاتے ہوئے عوام تماشائی کو مشروبات پلانے  لگتا ہے۔ میں مانگتا ہوں۔۔۔ مگر وہ نہیں دیتا۔۔۔۔۔۔ خوب پلاتا ہے۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد ساری عوام تماشائی بے ہوش ہو جاتی ہے۔۔۔۔ بچہ دانت  کٹ کٹانے لگتا ہے ۔ لیڈران بھی دانت کٹ کٹانے لگتے ہیں۔۔۔۔”

میں بہت تکلیف دہ عذاب میں ان خوابوں کی کی وجہ سے پڑنے لگا۔۔۔۔۔ میری پوری کوشش ہونے لگی کے جاگتے رہنا ہے ۔ مسلسل دو  رات نہیں سویا۔۔۔

مگر تیسری رات

آخری خواب

بچہ ہنستا ہوا کمرے میں داخل ہوتا ہے۔۔۔۔ میری ٹیبل پر رکھی کتابوں کو پلٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ ۔۔۔۔ میرے کپڑے نکالتا ہے ۔۔پہنتا ہے۔۔ رکھ دیتا ہے۔۔۔ میرے قریب آکر کہتا ہے ۔۔۔۔ تم کب تک نہیں سوتے۔۔۔۔  میرے دوست۔۔۔۔۔ تم بزدل ہو۔ خواب سے ڈر جاتے ہو۔۔۔ دانت کٹ کٹانی جاری کر دیتا ہے۔ میرا کمرہ تماشائیوں سے بھر جاتا ہے۔ ٹی وی والے ،اخبار والے پاس آ کر نیوز بنانا چاہتے ہیں۔ میں دھکا دیتا ہوں ۔ بچہ مجھے روک لیتا ہے۔۔۔ میں  بے بس ہو جاتا ہوں۔۔ لوگوں میں چپ کی فضا پیدا ہو جاتی ہے۔ میں رونے کے بجائے ہنستا ہوں خوب ہنستا ہوں۔۔۔۔ بچہ دانت کٹ کٹانا بند کر دیتا ہے۔۔۔ ہنستا جاتا ہوں۔۔۔۔۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میری ہنسی کی آواز ہر طرف پھیل جاتی ہے۔۔۔۔۔ مجھے سارے لوگ گھسیٹ کر چوراہے میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ میں مسلسل ہنستا ہوں۔ ہنستا ہی چلا جاتا ہوں ۔۔ میری آواز سے سبھوں کو حال آ جاتا ہے ۔۔۔ لوگ رقص شروع کر دیتے ہیں۔۔۔ ۔لیکن بچہ چپ چاپ کھڑا رہتا ہے ۔۔۔ پورا ماحول ہم رقص لگتا۔۔۔۔ ہے‌۔

بہ ہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم

بچہ لوہے کا پتر نکالتا ہے۔۔۔ اور میری گردن کاٹ دیتا ہے۔

 

Advertisements

One thought on “My Writing

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s