میں خرد مند رہوں یا تیرا وحشی ہو جاوں

میں خرد مند رہوں یا تیرا وحشی ہو جاوں
جو بھی ہونا ہے مجھے عشق میں جلدی ہو جاوں

 

زندگی چاک کی گردش کے سوا کچھ بھی نہیں
میں اگر کوزہ گری چھوڑ دوں مٹی ہو جاوں

 

پھر سے لے جائے میری ذات سے تُو عشق ادھار
اور میں پھر سے تیرے حسن پہ باقی ہو جاوں

 

کوئی دم تُو میرے چہرے پہ خوشی بن کے ابھر
کوئی دم میں تیرے چہرے کی اداسی ہو جاوں

 

یا تو دریا میں بدل جاوں کہ لہریں اٹھیں
ہا بگولوں کاکہا مان لوں آندھی ہو جاوں

 

اس کی جانب سے کوئی ہجر مجھے آ کے لگے
اور میں معرکہ ء عشق میں زخمی ہو جاوں

 

جبر کی طرح کوئی جبر کروں اپنے ساتھ
کیوں نا کچھ دیر کو میں اپنے پہ حاوی ہو جاوں