For The Binjoy River/”بنجوۓ” ندی کے نام

“بنجوۓ” ندی کے نام

ندی!!
میں تیرے پلیۓ پر کھڑا ہوں
یہاں سے دور گاتی لہروں کو
نہ جانے کب سے میں گننے کی کوشش کر رہا ہوں
چٹانیں ہر طرف بکھری پڑی ہیں
ترا بے لوث اور شفاف پانی
ان چٹانوں سے لپٹتا ہے
گلے ملتا ہے
کچھ چھینٹے اڑاتا ہے
مجھے یہ چھیڑخانی کتنی اچھی لگ رہی ہے
یہ کیسا پاک رشتہ ہے
تعلق اک حسیں شیٔ ہے
رابطے بھی خوب ہوتے ہیں
مری آنکھیں اچانک ڈر گئ ہیں
چٹانوں کی جڑوں میں
چھوٹے چھوٹے سانپ لپٹے ہیں۔
مجھے کوئی بتاتا ہے
کہ یہ آب و ہوا سانپوں کی پیدائش میں حد درجہ معاون ہے

مجھے محسوس ہوتا ہے
کہ اس دنیا کے سارے رابطوں میں
محبت بھی اک ایسا رابطہ ہے۔
جہاں سانپوں کی افزائش بہت ہے۔۔

 غالب ایاز


Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s