کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے

کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے ساتھ والا مکان روشن ہے یہ ستارے چہکتے ہیں کتنے آسماں کیا کسی کا آنگن ہے؟ چاندنی ہے سفیر سورج کی چاند تو ظلمتوں کا مدفن ہے آگ ہے کوہسار کے نیچے برف تو پیرہن ہے، اچکن ہے دائمی زندگی کی ہے ضامن یہ فنا جو بقا کی دشمن ہے … More کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے

از چشم ساقی مست شرابم

از چشم ساقی مست شرابم بی می خرابم بی می خرابم شوقم فزون تر از بی حجابی  بینم نہ بینم در پیچ و تابم چون رشتۂ شمع آتش بگیرد از  زخمۂ   من  تار   ربابم از من برون نیست منزلگہ من من بی نصیبم ،  راہی نیابم تا  آفتابی  خیزد  ز   خاور مانند … More از چشم ساقی مست شرابم

ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا

ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا اُس پر مری زُباں کو حدِّ ادب میں رکھا کس نے سکھایا سائل کو بھوک کا ترانہ پھر کس نے لاکے کاسہ دستِ طلب میں رکھا مفلس کی چھت کے نیچے کمھلا گئے ہیں بچّے پھولوں کو لا کے کس نے چشمِ غضب میں رکھا پروردگار نے … More ٹوٹے ہوئے دیے کو سنسان شب میں رکھا