….ایک خیال کی رو میں

ایک خیال کی رو میں ۔۔۔

کہیں سنا ہے
گئے زمانوں میں
لوگ جب قافلوں کی صورت
مسافتوں کو عبور کرتے
تو قافلے میں اک ایسا ہمراہ ساتھ ہوتا
کہ جو سفر میں
تمام لوگوں کے پیچھے چلتا
اور اُس کے ذمّے یہ کام ہوتا
کہ آگے جاتے مسافروں سے
اگر کوئی چیز گر گئی ہو
جو کوئی شے پیچھے رہ گئی ہو
تو وہ مسافر
تمام چیزوں کو چُنتا جائے
اور آنے والے کسی پڑاؤ میں ساری چیزیں
تما م ایسے مُسافروں کے حوالے کردے
کہ جو منازل کی چاہ دل میں لئے شتابی سے
اپنے رستے تو پاٹ آئے
پر اپنی عجلت میں کتنی چیزیں
گرا بھی آئے ، گنوا بھی آئے

میں سوچتا ہوں
کہ زندگانی کے اس سفر میں
مجھے بھی ایسا ہی کوئی کردار مل گیا ہے
کہ میرے ہمراہ جو بھی احباب تھے
منازل کی چاہ دل میں لئے شتابی سے
راستوں پر بہت ہی آگے نکل گئے ہیں
میں سب سے پیچھے ہوں اس سفر میں
سو دیکھتا ہوں کہ راستے میں
وفا، مروت، خلوص و ایثار، مہر و الفت
اور اس طرح کی بہت سی چیزیں
جگہ جگہ پر پڑی ہوئی ہیں
میں اپنے خود ساختہ اُصولوں کی
زرد گٹھری میں ساری چیزیں سمیٹتا ہوں
اور اپنے احساس کے جلو میں
ہر اک پڑاؤ پہ جانے والوں کو ڈھونڈتا ہوں
پر ایسا لگتا ہے
جیسے میرے تمام احباب منزلوں کو گلے لگانے
بہت ہی آگے نکل گئے ہیں
یا میں ہی شاید
وفا، مروت، خلوص و ایثار، مہر و الفت
اور اس طرح کی بہت سی چیزیں سمیٹنے میں کئی زمانے بتا چکا ہوں۔

Muhammad Ahmed

غمِ جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ھُوئے؟

غمِ جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ھُوئے؟
وہ ساری عمر انتظار کرنے والے کیا ھُوئے؟

بہم ھوئے بغیر جو گذر گئیں ، وہ ساعتیں
وہ ایک ایک پل شمار کرنے والے کیا ھُوئے؟

دُعائے نیم شب کی رسم کیسے ختم ھو گئی ؟
وہ حرفِ جاں پہ اعتبار کرنے والے کیا ھُوئے؟

کہاں ھیں وہ جو دشتِ آرزو میں خاک ھو گئے ؟
وہ لمحہ ابد شکار کرنے والے کیا ھُوئے؟

طلب کے ساحلوں پہ جلتی کشتیاں بتائیں گی
شناوری پہ اعتبار کرنے والے کیا ھُوئے؟

”افتخار عارف“

خبر نہیں بے حصار تھا میں کہاں کہاں پر

خبر نہیں بے حصار تھا میں کہاں کہاں پر
سو ڈھونڈھتا ہوں وجود اپنا یہاں وہاں پر

بہت سلیقے سے زندگی کو گزارنے میں
بکھر گئی میری سانس آخر بساط جاں پر


بڑی اذیت ہے سوچنا عہد بے حسی میں
ہزار صدیوں کا بوجھ ہے ذہن ناتواں پر


ثقافتوں کا طلسم ٹوٹا تو سوچتا ہوں
بہت ضروری ہے اک سفر راہ رفتگاں پر


درازی شب میں تجھ کو تسخیر کر رہا ہوں
یقین دینے لگا ہے دستک در گماں پر


راغب اختر

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں

اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں

اب تو اُس کی آنکھوں کے میکدے میّسر ہیں
پھر سکون ڈھونڈو گے ساغروں میں جاموں میں

دوستی کا دعویٰ کیا عاشقی سے کیا مطلب
میں ترے فقیروں میں میں ترے غلاموں میں

رائیگاں مسافت میں کون ساتھ چلتا ہے
سب ہی چھوڑ جاتے ہیں دو چار گاموں میں

زندگی بکھرتی ہے شاعری نکھرتی ہے
دل بروں کی گلیوں میں دل لگی کے کاموں میں

جس طرح شعیب اُس کا نام چُن لیا تم نے
اُس نے بھی ہے چُن رکھا ایک نام ناموں میں
شعیب بن عزیز

عشق ميں غيرتِ جذبات نے رونے نہ ديا

عشق ميں غيرتِ جذبات نے رونے نہ ديا
ورنہ کيا بات تھي، کِس بات نے رونے نہ ديا

آپ کہتے تھے کہ رونے سے نہ بدليں گے نصيب
عمر بھر آپ کي اِس بات نے رونے نہ ديا

رونے والوں سے کہو، اُن کا بھي رونا رو ليں
جن کو مجبوريِ حالات نے رونے نہ ديا

تجھ سے مِل کر ھميں رونا تھا، بہت رونا تھا
تنگيِ وقتِ مُلاقات نے رونے نہ ديا

ايک دو روز کا صدمہ ھو تو رو ليں ، فاکر
ھم کو ھر روز کے صدمات نے رونے نہ ديا

“سدرشن فاکر”

Mil hi jayega kaheen dil ko yaqeeN rahta hai…..

Mil hi jayega kaheen dil ko yaqeeN rahta hai
Wo isee shahr ki galiyoN men kaheeN rahta hai

 

Jis ki sansoN se mahakte the dar o baam tere
Aye makaN bol kahaN ab yeh makeeN rahta hai

 

Ek zamana tha k sab ek jagah rahte the
Aur ab koii kaheeN , koii kaheeN rahta hai

 

Roaz milne pe bhi lagta tha k jug beet gaye
Ishq men waqt ka ehsaas naheeN rahta hai

 


Dil fasurda to hua dekh k usko , lekin
Umr bhar kaun jawaN , kaun haseeN rahta hai

Ahmad Mushtaaq

کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے

کچھ نہیں آفتاب، روزن ہے
ساتھ والا مکان روشن ہے

یہ ستارے چہکتے ہیں کتنے
آسماں کیا کسی کا آنگن ہے؟

چاندنی ہے سفیر سورج کی
چاند تو ظلمتوں کا مدفن ہے

آگ ہے کوہسار کے نیچے
برف تو پیرہن ہے، اچکن ہے

دائمی زندگی کی ہے ضامن
یہ فنا جو بقا کی دشمن ہے

یاد تارِ نفس پہ چڑیا ہے
وحشتوں کا شمار دھڑکن ہے

بھیگتا ہوں تمھاری یادوں میں
خط تمھارا مجھے تو ساون ہے

دیکھتا ہوں بچھڑنے والوں کو
خواب گویا کہ دور درشن ہے

نخلِ گُل ہو کسی کا مجھ کو کیا
مجھ کو تو خار و خس ہی گلشن ہے

تک رہا ہوں جہاں کو حیرت سے
مجھ میں جاگا یہ کیسا بچپن ہے

آپ مجھ کو ہی ڈھونڈتے ہوں گے
سب سے پتلی مری ہی گردن ہے

ہنس دیے میری بات سن کر وہ
مُسکرا کر کہا کہ بچپن ہے

احمدؔ اپنی مثال آپ ہوں میں
ہاں مِرا شعر، میرا درپن ہے

محمد احمدؔ